ابنا: شہید کے نام خط عید الفطر و عید قربان مسلمانان عالم کے لئے اللہ تعالی کے اکرام و انعام کے مظاہر ہیں، رمضان المبارک میں مسلسل تیس دن بھوک و پیاس تحمل و برداشت کرنے کے بعد اخروی نعمتوں و خلد بریں جیسی بےمثال و بینظیر عطائیوں کے علاوہ یکم شوال کو عید الفطر کا دن قرار دے کر مخلوق پر رحمتوں اور برکتوں کی برسات کر دی گئی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی کو جاودانی عید قربان سے عطا کر دی گئی اور 10 ذوالحجہ کو عید کا دن قرار دے کر بندوں کے لئے مسرتوں اور خوشیوں کا سامان فراہم کیا گیا۔
اسلام نے مسلمانوں کے خوشیوں کے ان تہواروں میں سماج کے نادار و ضعیف انسانوں کے کا بھرپور خیال رکھا۔ عید الفطر کے موقع پر زکوٰۃ، فطرہ کے وجوب سے مستضعفین کے مشکلات کے ازالے کا اہتمام کیا گیااور قربانی کے گوشت میں فقراء کے لئے حصہ مختص کرکے ان پابرہنہ انسانوں کے دردوں کا مداوا کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ ان دو بڑی عیدوں اور نوید و مسرت کے ان لمحات و لحظات میں والدین بچوں کا خصوصی خیال رکھتے ہیں اور انہیں طرح طرح کے ہدایا و تحائف دے کر ان کا دل بہلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اگر مع الاسف کسی بچے سے اس کے والد کا لازوال سایہ چھین لیا گیا ہو اور بچپن میں ہی دین و دیس کے دشمنوں نے اسے یتیم کیا ہو اس پر عید کے ایام کیسے بیتے ہیں۔
آئیے القائم ٹرسٹ کے شعبہ فلاح و بہبود کے ادارے زینبیہ (ع) اکیڈمی کے ننھے پھول اسد عباس سے اس کے زبانی ان نامحو خیالات و تصورات کے بارے میں معلوم کرتے ہیں جن کا اظہار برادر اسد عباس نے اپنے شہید بابا کے نام ایک خط میں کیا ہے۔
پیارے باباجان !!
تیرا بیٹا تصور میں تجھ سے مخاطب ہے، جی تیرا ہی تصور ۔ تیرا لخت جگر !! تیرا نور نظر، تیری آن و جان ، تیری آس و آرزؤں کا محل ، امیدوں کا قصر و فکروں کا آکاش، تیری یادوں کا پیکر و بینائی کا کوکب! تیرے دل کا ثمر و وجود کا طومار !! تیرے لبوں کا لامس و ہونٹوں کا ملموس بابا وہی ناکہ جس کی دنیا میں آمد کے لئے تونے کتنی ہی منتیں مانگی تھیں اور رب ارباب سے کیسے التجائیں کی تھیں، دادی اماں نے کتنے روزے رکھے تھے اور پھوپھیوں نے کتنے ہی مقدس آستانوں کے در پہ سر جھکائے تھے۔ عزیزوں نے دعائیں دی تھیں، ہمدردوں نے نیازیں دی تھیں، تیرے دوستوں کی خواہشیں تھیں اور اقارب کی تمنائیں۔بابا!! اے میرے شہید بابا!!وہی اسد عباس ہوں جو اب تک آپ کے سینے کو نہیں بھولا اس لئے کہ وہ میری خوابوں کا محل تھا و راحت و سکون کا مجال، آسائش کا محور تھا و میری محبت کے سفینہ کا لنگر، وہ سینہ جس پہ لینے والی سانسیں راحت و سکون کا عملی پیکر تھیں و بیکراں موجوں پہ سفینہ مصون کا نظارہ، تیرے وہ بلند و بالا شانے جن پہ میرا سر ہوتا اور میں آسائش کی نیند سوتا اور تیری محبت کے بےپناہ بادل، نسیم سحر کے جھونکے بن گئے تھے ،بھلا میں اسے کیسے بھول سکتا ہوں؟بابا!! تیرے لبوں کی خوشبو سے میرے رخسار ابھی تک معطر ہیں اور ان پر تیر ی مہر و محبت و لطافت کے نامحو مہریں ہیں۔ یاد ہے نہ جب تم گھر لوٹ آتے اور تیرے ماتھے و جبیں پر میری نظر پڑتی تو میں دوڑ کے آتا ۔ تو سینے سے لگاتا تو میری اداسی و بیقراری پر سرور کا غلبہ چھا جاتا، تیری گود میں بیٹھنا تو ہمالیہ سے بلند مقام نشست کی یاد دلاتا اور افلاک کی سیر کراتا۔بابا اے میرے شہید بابا!!میں عید کیسے مناؤں جبکہ تیری یادیں دل میں دریائے بیکراں کی طرح موجزن ہیں؟خوشیاں کیوں کر مناوں تیرے پھولوں سے نازک جسم پر گولیوں کی بوچھاڑ کی یادیں ہیں؟مسرتیں کیوں ہوں جبکہ تیرا بے گناہ و بےخطا جسم ، انسانیت کے دشمنوں کی بربریت کا شکار ہو گیا؟کیسے بھولوں تیرا بےگناہ لہو؟ کیوں فراموش کروں تیرا سر بریدہ وجود؟کیونکر یاد نہ ہو بے گور و کفن لاشہ ؟ کیسے ہو نہ یاد تیر ا خس و خاشاک پر جسد؟ہر لحظہ و ہر آن کیوں نہ ہو چاند کی طرح تیرا ٹکڑے ٹکڑے بدن؟بابا!! یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ذہن سے محو ہو تیرا بکھرے ہوئے موتیوں کی طرح مجروح بدن؟باباتیرے ٹکڑے ٹکڑے بدن پر آفتاب کی تابش کو کیونکر فراموش کر سکتا ہوں؟ ہوا کی تپش کو کیونکر بھول سکتا ہوں، رات کی ظلمتوں کو کون وادی نسیاں کی نظر کر سکتا ہے ؟
بابا!! عید کی رات ہمسائیوں کے بچوں پر خوشی کے نغمے طاری تھے، کسی نے کہا پاپا کے ساتھ بازار گیا تو کپڑے خریدے، کسی نے بالیوں کا تذکرہ کیا، تو کوئی اور نت نئے جوتوں کی روئیداد سناتا رہا تو کوئی اور انگشتری کے قصے۔ آہ بابا!!پتہ ہے بابا ان کے لبوں پر مسکراہٹوں، چہروں پر شادمانیوں کو دیکھ کر میں نے کیا کیا؟ آیا اس مقام پر جو گھر میں تیرے بیٹھنے کا مقام تھا، جہاں میری دنیا آباد تھی، جو تیرے سکون کا نشیمن تھا، جہاں میری کائنات کے ستون قائم تھے۔ وہاں تجھے نایاب پاکر گھر میں دیوار سے لٹکی تیری تصویر سے مخاطب ہوا اور کہا، بابا عید کی رات بھی گزرنے والی ہے، میرے لئے خریداری کب کرو گے، مجھے بازار کب لے جاؤ گے، میرے کپڑے کب خریدو گے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتنا کہوں کہ !گزر تو جائے گی تیرے بغیر بھی لیکن بڑی اداس بہت بیقرار گزرے گیبابا!عید کی رات آئی، تیری لاڈلی بیٹی اور میری ننھی بہن الفت نے غمزدہ ماں سے مہندی مانگی، سارہ نے چوڑیاں، وسیم نے کپڑے آہ! نجمہ نے بالیاں، یقین جانیں ان لمحات میں تیری یاد نے بہت ستایا!!بابا!! اے میرے شہید بابا!! کیا لکھوں، کیا سناؤں، کیا کہوں ؟ میر ی غربت کی کونسی یادیں، تیرے فراق کے بعد اپنے پر بیتی کونسی روئیدادیں، بےکسی کی کیا کیا داستانیں، بھوک کی کونسی باتیں، اور افلاس کی کونسی راتیں؟بابا!!بہت ستایا ان لمحات نے، اداس بنایا ان لحظات نے، غمزدہ بنایا ان اوقات نے، لاچار کیا ان راتوں نے، بےبس بنایا ان دنوں نے جب بازاروں میں میرے ہم سن و سالوں کے ہاتھ دیکھے جو ان کے والدین کے گلوں سے آویزاں تھے ، وہ انگلیاں دیکھیں جو والدین کا ہاتھ تھامے بازاروں کا رخ کر گئیں تھیں۔ بابا پھر وہ وقت یاد آیا جب چھوٹی بہن الفت کا دایاں جبکہ میرا بایاں ہاتھ پکڑ کر بازار لے گئے تھے، دوکاندار کے استفسار پر آپ نے فرمایا ! میرے بچے جو چاہیں دے دینا۔آہ میرے پروردگار کیا وہ لحظات پھر آئیں گے؟پالنے والے، اے رحمان و رحیم خالق!کیا وہ دن پھر آئے گا کہ میں اپنے پاپا کی آمد کی مہک سے بار دیگر گھر کے دروازے کی طرف لپکوں ، میں ہاتھوں کو اٹھاؤں بابا سینے سے لگائیں، میں چوموں وہ گلے لگائیں، میں رخساروں کا بوسہ لوں اور وہ محبت کے دریا نچھاور کریں۔ میں مانگوں وہ عطاکر دیں، میں چاہوں وہ قربان کر دیں، میری مٹھاس کا احساس کریں اور میں اس کی حلاوت کا احصاءبابا! عید کی نماز کا وقت آیا تو ان خوشگوار لمحات نے بھی خوب ستایا! بہت ہی رلایا، کیونکہ وہ وقت یاد آیا جب میری ماں نے مجھے خوشبو لگا کے، نئے کپڑ ے پہنا کے نماز عید پڑھنے کے لئے تیرے ساتھ رخصت کیا، تونے ہاتھ دیا میرے لئے گویا افلاک کی سیر تھی۔ اس لئے کہ تیرے ہاتھوں میں میری معصوم انگلیاں تھیں گویا ان لحظات میں آفاق میرا ہی اسیر تھا۔ بابا صرف میں نہیں بلکہ ان لحظات میں میری اداس ماں کی آنکھوں سے بھی اشکوں کا سمندر جاری ہوا، جب میں نے پوچھا اماں بابا کب آئیں گے نماز کی دیر ہو گئی۔بابا! کیسے بھولوں عید کی رات کے وہ اوقات جب کہ ہمسائیوں کے بچے قربانی کے جانوروں سے کھیلتے نظر آئے۔ عید نے خوشیوں کی نوید کی بجائے خواب دکھایا۔ بابا جان!! تاریخ کا وہ سیاہ دن اور میری زندگی کا بدقسمت روز۔۔۔۔۔ وہ کائنات کی کس قدر بدنصیب رات تھی اور وہ میرے مقدرات کا کس قدر تاریک لحظہ، جب کربلائے پارہ چنار کے گاؤں علیزئی کی مسجد کے میناروں سے آواز آئی انا للہ و انا علیہ راجعون۔ بدن کانپ اٹھا، جسم تڑپا، سانسیں رک گئیں، نبضیں خاموش ہو گئیں، روح کوچ کر گئی، لپٹا تو ایک بےکس و ناتواں ماں سے !! گلے لگایا تو بےسہارا ماں نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا !! یقین جانیں زینبیہ (ع) اکیڈمی کے نشیمن کے رکھوالوں نے عید سے ایک ماہ پہلے نئے کپڑوں کا بندوبست کیا، خوشیوں کی ہر ممکنہ بساط کو بچھایا گیا، محبتوں کے دریا نچھاور کئے گئے، سر پر شفقت کے ہاتھ پھیرے گئے، مہر و محبت کے، الفت کے ڈھیروں خزانے نثار کئے گئے، لیکن جو کائنات تیرے وجود سے خالی ہو اس کائنات میں میرے لئے کوئی مٹھاس نہیں۔ وہ زمین جو تیرے قد و قامت کا احصاء نہ کرے وہ میرے لئے حلاوت کا سامان کیسے فراہم کر سکتی ہے۔ امید ہے عالم برزخ سے مجھے دعائیں دینے کے ساتھ زینبیہ (ع) اکیڈمی کے رکھوالوں کو بھی فراموش نہیں فرمائیں گے۔سلام تجھ پر، تیرے بدن و روح پر آپکا بیٹا
.......
/169